4 فروری 2026 - 04:40
ایران کا آتشیں قاصد جو بےخبری میں دشمن کے ہاں اترتا ہے

"قاسم بصیر" ایک میٹر سے بھی کم درستگی والا میزائل ہے جو جی پی ایس پر انحصار کئے بغیر، الیکٹرانک وارفیئر اور دشمن کے جدید ڈیفنس سسٹمز سے گذرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی جمہوریہ ایران نے پچھلے 47 سالوں میں دفاعی شعبے کو آزادی، طاقت اور قومی خودکفالت کے نمایاں ترین نشانات میں سے ایک بنا دیا ہے۔

سخت اور ہمہ گیر فوجی پابندیوں نے نہ صرف ملک کی دفاعی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی، بلکہ قومی دفاع کے نقطہ نظر کو مقامیانے اور اندرونی صلاحیتوں پر انحصار کی طرف موڑ دیا اور ایک آزاد اور مؤثر دفاعی ڈھانچے کی تشکیل کا باعث بنا۔

آج فوجی سازوسامان کی وسیع اور متنوع پیداوار، تسدیدی صلاحیت (یا ڈيٹرنس) میں اضافے، سرحدوں کی مستحکم سلامتی کو یقینی بنانے اور خطے کی سلامتی میں ایران کی اثرگذاری کی تقویت میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔

ایران کا آتشیں قاصد جو بےخبری میں دشمن کے ہاں اترتا ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع فلائٹ بریگیڈیئر عزیز نصیرزاده نے بارہ روزہ جنگ میں اسلامی جمہوریہ کی فتح کے بعد ایک انٹرویو میں کہا: "جنگ شروع ہونے سے پہلے ایک میزائل کا اعلان کیا گیا تھا جو ملک کا سب سے زیادہ درست نشانے پر لگنے والا میزائل سمجھا جاتا ہے اور حالیہ جنگ میں اسے استعمال نہیں کیا گیا۔"

سوال یہ ہے کہ اس میزائل کا نام کیا ہے؛ اس کی صلاحیتیں اور خصوصیات کیا ہیں؛ یہ بغیر نشان زدہ کیے دشمن کے ہدفوں کو آن کی آن میں تباہی سے دوچار کیسے کر سکتا ہے۔

ایران کا آتشیں قاصد جو بےخبری میں دشمن کے ہاں اترتا ہے

مورخہ 4 مئی 2025ع‍ کو وزارت دفاع کے ایرو اسپیس ڈپارٹمنٹ کی تازہ ترین حصولیابی ـ یعنی "قاسم بصیر" بیلسٹک میزائل کی تیاری ـ کا اعلان کیا گیا۔

"اس میزائل کا نام کیا ہے؟ اس کی صلاحیتیں اور خصوصیات کیا ہیں؟ یہ میزائل کیونکر ـ دشمن کے ریڈار سسٹمز کو نظر آئے بغیر ـ دشمن کے اہداف کو پلک جھپکتے میں تباہ کر سکتا ہے؟

"قاسم بصیر" کی جی پی ایس کے بغیر ہوشیار رہنمائی

"قاسم بصیر" 1200 کلومیٹر سے زیادہ رینج اور انتہائی درستگی کے ساتھ اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اس کی نشانہ بازی میں غلطی کا تخمینہ ایک میٹر سے بھی کم ہے۔ یہ میزائل ایک جدید تھرمل (آپٹیکل) امیجنگ سسٹم سے لیس ہے جو ہدف کی درست شناخت اور بہت کم غلطی کے تناسب کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔

ایران کا آتشیں قاصد جو بےخبری میں دشمن کے ہاں اترتا ہے

"قاسم بصیر" کے نیویگیشن سسٹم میں، دفاعی وزارت کے ایرواسپیس ماہرین نے جان بوجھ کر جی پی ایس ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کیا؛ ایک ایسی خصوصیت جو میزائل کے دشمن کی رخنہ اندازیوں اور الیکٹرانک وارفیئر آپریشنز کے خلاف مزاحمت میں نمایاں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ علاوہ ازیں، یہ میزائل پرواز کے دوران حرکت پذیری کی صلاحیت بڑھا کر، دشمن کے ایئر ڈیفنس سسٹمز سے مؤثر طریقے سے گذرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

"قاسم بصیر" میزائل کا شدید جنگی حالات اور دشمن کی شدید الیکٹرانک خلل اندازی کے حالات میں کامیاب تجربہ کیا گیا ہے اور اس نے ان خطرات کا مقابلہ کرنے میں اپنی اعلیٰ صلاحیت کا ثبوت دیا ہے۔ اس میزائل کی دیگر نمایاں خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ یہ کئی ضمنی اور گمراہ کن اہداف میں سے متعینہ بنیادی  ہدف کو شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو اس کے گائیڈنس سسٹم کی اعلیٰ درستگی اور ذہانت کا ثبوت ہے۔

ان تمام صلاحیتوں کا مجموعہ، ـ بشمول پیچیدہ ڈیفنس سسٹمز سے گذرنا اور الیکٹرانک وارفیئر کے خلاف اعلیٰ مزاحمت، ـ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران ذہین ہتھیاروں کے شعبے میں، سرکردہ ممالک کی سطح کے قریب ہے۔

ایران کا آتشیں قاصد جو بےخبری میں دشمن کے ہاں اترتا ہے

ایران کی میزائل صلاحیت کا نیا مرحلہ

ایران کی میزائل صلاحیت مختلف رینج اور صلاحیتوں والے میزائلز کے ایک متنوع مجموعے پر انحصار کرتی ہے اور اس نے اب تک اس میدان میں بے پناہ صلاحیت اور طاقت کا مظاہرہ کیا ہے؛ اور ان میزائلوں میں خُرَمشَہر، قدر، عماد، قیام، خیبر شکن، حاج قاسم، سِجِّیل خاندان کے میزائل اور پاوہ کروز میزائل وغیرہ شامل ہیں۔

میزائلی صلاحیت کے اس سطح تک رسائی سیکورٹی کے انتہائی سخت حالات اور بیرونی دباؤ کے پس منظر میں برسوں کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے؛ ایک ایسا مشن جو آج ایک نئے اور جدید تر مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

ملک کی دفاعی اور میزائلی صلاحیت زیادہ مؤثر ہو گئی ہے، وزارت دفاع

دفاعی وزارت کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے ایران کی میزائل صلاحیت میں اضافے کے بارے میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے کہا: "اسلامی جمہوریہ کی میزائل قوت کی کیفیت اور کمیت کے لحاظ سے ـ 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ـ اضافہ ہؤا ہے اور 12 روزہ جنگ کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، ملک کی میزائل دفاعی صلاحیت کئی گنا زيادہ مضبوط اور مؤثر ہو گئی ہے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha